ایک بار ایک شخص ایک پیر صاحب کے پاس آیا اور زار و قطار روتے ہوئے ان کے پاؤں میں گر پڑا اور گڑگڑاتے ہوئے کہا "میری شراب چھڑوا دیں" پیر صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا "فکر نہ کرو، میں دعا کروں گا!" اس شخص نے اسی طرح روتے ہوئے التجا کی "صرف دعا نہیں کرنی، آپ نے کسٹم والوں سے بات بھی کرنی ہے"۔
**************
ایک پیر صاحب اور ان کے ساتھ ایک مرید سفر میں تھے۔ کہ راستے میں رات پڑ گئ۔ انہوں نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ آدھی رات کومرید کی آنکھ کھلی، اس نےادب و احترام سے ٹہوکا دیکر پیر جی کو تہجد کیلیئے جگایا اور پوچھا کہ اس وقت آپ کو کیا خیال آرہا ہے؟پیر جی نے کہا۔ اس تاروں بھری رات کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ کائنات کتنی وسیع اور بیکراں ہے۔ اور رب کائنات کی ذات بابرکات کتنی عالیشان ہے جو اس کا نظام چلا رہی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس رات میں کتنا رومان بھرا ہے۔ کتنی آسودہ خوشبو ہے۔ کتنا سکون ہے۔ کائنات کا حسن رات میں کتنا نکھر گیا ہے۔۔۔ پھر ایک لمحے کو پیر جی نے توقف کیا اور مرید سے پوچھا کہ تم بھی تو کچھ کہو کہ تمہیں اس وقت کیا خیال آرہا ہے؟
مرید بولا۔ حضور ان تاروں بھری رات کو دیکھ کر مجھے تو یہی خیال آرہا ہے کہ کسی نے ہمارا خیمہ چوری کرلیا ہے اور ہم کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔