بچہ: مجھے ایک ڈبہ سرف کا چاہیے!
دُکان دار:لیکن کیوں؟
بچہ:مجھے اپنی بلی کو دھونا ہے!
دُکان دار:نہیں! تم بلی کو سرف سے مت دھونا وہ مر جائے گی۔
اگلے دن دُکان دار: تمہاری شکل کیوں اُتری ہوئی ہے؟
بچہ:میری بلی مر گئی۔
دُکان دار:تمہیں کہا تھا نا کے بلی کو سرف سے مت دھونا!
بچہ:ہاں مگر وہ دھونے سے نہیں مری۔
دُکان دار:تو پھر کیسے مر گئی؟
بچہ:ڈرائر میں سکھانے سے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بچہ اپنی دادی سے
دادی کیا ہم ہمیشہ پانچ رہیں گے، آپ میں، امی ابو ، باجی ۔۔؟
دادی۔ نہیں جب تمھاری شادی ہو جائے گی تو ہم چھ ہو جائے گے۔
بچہ ۔ پھر جب باجی کی شادی ہو جائے گی ہم پانچ رہ جائیں گے۔؟
دادی۔ پیارے پھر جب تمہارا بیٹا ہو جائے گا ہم پھر
سے چھ ہو جائیں گے۔۔
بچہ۔ پھر جب آپ فوت ہو جاؤ گی تو ہم پھر سے پانچ ہو جائیں گے۔۔؟
دادی۔ غصے سے۔۔لکھ دی لانت تیرے حساب تے
دادی کیا ہم ہمیشہ پانچ رہیں گے، آپ میں، امی ابو ، باجی ۔۔؟
دادی۔ نہیں جب تمھاری شادی ہو جائے گی تو ہم چھ ہو جائے گے۔
بچہ ۔ پھر جب باجی کی شادی ہو جائے گی ہم پانچ رہ جائیں گے۔؟
دادی۔ پیارے پھر جب تمہارا بیٹا ہو جائے گا ہم پھر
سے چھ ہو جائیں گے۔۔
بچہ۔ پھر جب آپ فوت ہو جاؤ گی تو ہم پھر سے پانچ ہو جائیں گے۔۔؟
دادی۔ غصے سے۔۔لکھ دی لانت تیرے حساب تے